Showing posts with label Syed Munawar Hassan. Show all posts
Showing posts with label Syed Munawar Hassan. Show all posts

Islamic Revolution is Coming.....


The revolution is coming


Jamaat-e-Islami Pakistan has launched Membership Mohim 2011.







Dharna Against Raymond Devis in Lahore.




جمعیت کی بدولت تعلیمی اداروں میں نظریہ اسلام و پاکستان زندہ ہے :: سید منور حسن کا خطاب

  اٹک:   جماعت اسلامی پاکستان کے امیرسید منور حسن نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں اسلامی تحریکیں کامیابی کی جانب گامزن ہیں جبکہ امریکہ نواز حکمرانوں کے خلاف عوام نے علم بغاوت بلند کر دیا ہے۔ جہاد ی تحریکوں کی کامیابی ہے کہ آج کشمیر، فلسطین، افغانستان، تیونس، مصر اور دوسرے ممالک میں استعماری طاقتوں کو شکست کا سامنا ہے۔ پاکستان کی اسلامی تحریک کو موجودہ حالات کا تناظر میں تاریخ کی سب سے بڑی آزمائش کا سامنا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان اس آزمائش میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے بھرپور اور مؤثر کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے 58ویں کل پاکستان سالانہ اجتماع ارکان منعقدہ اٹک سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع جماعت اسلامی کے مقامی عہدیداران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ اس سے قبل جب سید منور حسن پنڈال میں داخل ہوئے تو ارکان جمعیت نے اپنے سابق ناظم اعلیٰ کا پرتپاک استقبال کیا ۔ سید منور حسن نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ تعلیمی اداروں میںطلبہ کی مؤثر اور بیدار طلبہ تحریک ہے جس نے بہتے دریا کی مانند اور چجر سایہ دار کی طرح قوم کے نوجوانوں کی راہنمائی اور سرپرستی کی ہے ۔ آج جمعیت کی ہی جدوجہد کا ثمر ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں نظریہ اسلام اور پاکستان زندہ ہے اور استعماری طاقتوں کی راہ میں ہمارے طلبہ اور تعلیمی ادارے مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے یک طرفہ طور پر دنیا کی حکمرانی اور فرعونیت کا دعویٰ کیا ہے اور بدقسمتی سے اقوام عالم ہی نہیں عالم اسلام کے حکمران بھی امریکی پٹھو کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہمارے تمام تر وسائل امریکی مفادات کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ صرف اسلامی تحریکیں ہیں جو امریکی چیلنج کا مؤثر مقابلہ کر رہی ہیں اور ان تحریکوں کی لازوال جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں نہ صرف امریکہ کو شکست کا سامنا ہے بلکہ مسلم ظالم و جابر حکمرانوں کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر عوامی بغاوت پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ بری طرح ناکام ہوا ہے۔ کہا جاتا تھا کہ افغانستان سپر پاورز کا قبرستان ہے اور آج نہتے افغانیوں نے ایک بات پھر اس نعرے کو زندہ کر دیا ہے کہ امریکی زیر قیادت 60 ممالک کی فوجوں کے اتحاد کا قبرستان افغانستان ہے۔ امریکی سائنس و ٹیکنالوجی، ذہانت، تھنک ٹینک اور عسکری طاقت کا قبرستان افغانستان ہے۔  انہوں نے کہا کہ امریکہ و نیٹو فورسز افغانستان پر واپسی کا راستہ تلاش کر رہی ہیں۔ٹائم فریم دیئے اور واپس لئے جا رہے ہیں لیکن افغانستان میں تمام امریکی و نیٹو حکام اس بات کا با تکرار کہتے ہیں کہ ہم جتنی دیر افغانستان میں مزید رہیں گے اتنی ہی لاشیں ہمیں واشنگٹن اور نیو یارک بھیجنی پڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امریکی ڈکٹیشن پر جو پالیسیاں چلائی جا رہی ہے وہ عوام کی نمائندہ پالیسیاں نہیں۔ جمہوریت انتخابات کے ذریعے نہیں بلکہ جمہوری رویوں کے ذریعے آتی ہے اور پاکستان حکومت نے عوام کی توقعات کو بری طرح پامال کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری جنگ نہیں امریکی مفادات کی جنگ ہے۔ یہ جنگ امریکہ کو اس خطے میں بالادست بنانے اور بھارتی برتری کو دیگر ممالک پر قائم کرنے کے لئے ہے اور پاکستان اس جنگ میں مسلسل ایندھن بنا ہوا ہے۔ ہم پر ڈرون حملوں کی بمباری ہے، ہمارے گلی کوچے خون سے تر ہیں اور ہماری قوم کی بیٹیوں سمیت بڑی تعداد میں نوجوانوں کو لاپتہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ سے فوری طور پر دستبردار ہونا ہو گا اور امریکہ پر یہ واضح کر نا ہو گا کہ اب اس کے مفادات کے لئے ہم کسی قسم کا ایندھن بننا گوارا نہیں کریں گے۔ صوبہ خیبر کے مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن امریکی ڈکٹیشن پر کئے جا رہے ہیں ۔ ہماری فوج اور حکومت کو یہ سمجھنا ہو گا کہ وہ کن قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صورتحال اس قدر بدتر ہے کہ امریکی لاہور جیسے شہروں میں کھلم کھلا ہمارے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ہمارے حکمرانوں کا یہ عالم ہے کہ تمام تر ثبوت اور شواہد کی موجودگی کے باوجود انہیں ریلیف دینے او ر ٹالنے کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے تین شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور حکومت کو چاہئے کہ وہ ایک نوجوان کو کچلنے والے امریکی اہلکار کو بھی قانون کے شکنجے میں لائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام تر مسائل کا حل تعلق باللہ میں ہے ۔ ہمیں اللہ کے ساتھ اپنا تعلق مزید مضبوط کرنا ہو گا۔ اللہ سے استعانت طلب کیجئے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے پورے شعور کے ساتھ میدان عمل میں نکل کھڑے ہوں ۔ یقینا اللہ اس جدوجہد میں ہمیں کامیابی سے نوازیں گے۔

کراچی : قانون تحفظ ناموس رسالت میں ممکنہ ترمیم کیخلاف جماعت اسلامی کی ریلی



سید منور حسن نے مہنگائی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے دھرنے کا اعلان کر دیا

علمائے کرام اور مشائخ عظام متحدہو کر امریکی سازش ناکام بنادیں گے۔ دینی جماعتوں کے آئندہ اتحاد میں سجادہ نشین اہم کردار ادا کریں گے۔ سید منور حسن


امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے کہاہے کہ دنیا میں غلبہ حاصل کرنے کے دو نظاموں کی جنگ جاری ہے، امریکہ طاقت کے بل بوتے پر دنیا پر حکمرانی کرنا چاہتاہے لیکن اس کی عسکری قوت عراق اور افغانستان میں شکست سے دوچار ہوئی ہے۔ مساجد اور مزارات پر حملے امریکی و بھارتی ایجنسیاں کرارہی ہیں،علمائے کرام اور مشائخ عظام متحدہو کر امریکی سازش ناکام بنادیں گے۔ دینی جماعتوں کے آئندہ اتحاد میں سجادہ نشین اہم کردار ادا کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں اتحاد امت سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں دینی جماعتوں کے قائدین، علمائے کرام، مشائخ عظام اور سجادہ نشین حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد، لیاقت بلوچ، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ(سجادہ نشین دربار بابا غلام فرید کوٹ مٹھن)، پیر سید ہارون گیلانی(سجادہ نشین حضرت میاں میرلاہور)، پیر احمد علی سلطان(گدی نشین حضرت سلطان باہو)، صاحبزادہ نفیس الحسن گیلانی(سجادہ نشین اوچ شریف)، حافظ عاکف سعید (امیر تنظیم اسلامی)، مولانا امجد خان(سیکرٹری اطلاعات جے یو آئی ف)،پیر اعجاز ہاشمی(نائب صدر جمعیت علمائے پاکستان)،امیر حمزہ(جماعۃ الدعوہ)، پیر سید نوبہار شاہ، علامہ زبیر احمد ظہیر(جمعیت اہلحدیث)،مولانا عبدالرؤف(متحدہ علماء کونسل)، حافظ کاظم رضا نقوی(اسلامی تحریک)، مولانا عبدالمالک(صدر جمعیت اتحاد العلماء) ، ڈاکٹرعلی سید بخاری (پیر صاحب ننکانہ شریف)پیر غلام رسول اویس نے خطاب کیا جبکہ ڈاکٹر فریداحمد پراچہ نے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایاکیا جس کی قائدین و حاضرین نے تائید کی۔
سید منورحسن نے کہا کہ دنیا سمٹ کر ایک گاؤں کی شکل اختیار کر گئی ہے، امریکہ نے اس کے تھانیدار کا روپ اختیار کرلیا ہے۔ اور نیوورلڈ آرڈر کا اعلان کرکے طاقت کے بل بوتے پر اپنی تہذیب کو غالب کرنا چاہتاہے۔ اس کی تہذیب کو نہ ماننے والوں کو دہشت گردقرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اسلام عالمی پیغام کا حامل اور لوگوں کے دل و دماغ پر غلبہ پانے والا دین ہے۔ دینی اور دعوتی تحریکوں کی طرف مسلم عوام کا رجوع بڑھ رہاہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ عراق و افغانستان میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ 40ممالک مل کر بھی افغانستان میں جنگ جیت نہیں سکے۔ انھوں نے کہا کہ مسلم انتہاپسندی کو ویلکم کرتا ہوں، یہ حالات کی پیداوار ہے۔ مسلمانوں پر ظلم ہورہاہے، امریکی استعمار کی ہر جگہ مزاحمت ہونی چاہیے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں ہوگا تو انتشار بڑھے گا۔حکومت پارلیمنٹ کے بجائے امریکی احکامات اور ہدایات پر عمل کرتی ہے۔ حکومت حالات کی بہتری میں سنجیدہ ہے تو امریکی اتحاد سے باہر نکلے اور امریکی ڈکٹیشن قبول کرنے سے انکار کردے۔ انھوں نے کہا کہ بارک اوباما نے بھارتی دورے کے دوران پاکستانی اور کشمیری قوم کے زخموں پر نمک چھڑکا۔
جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل اور ایم ایم اے کے قیام سے دوریاں ختم ہوئی ہیں ، دینی قیادت ہر طرح کی عصبیت ختم کرکے ساتھ بیٹھی ہے اور مشترکہ مجالس کا انعقاد ہوتا رہاہے۔ گہرے تعلقات قائم ہونے سے بدظنی کے بجائے حسن ظن پیدا ہواہے انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان عصبیت اور نفرت کی دیواریں دشمن نے کھڑی کی ہیں لیکن علماء و مشائخ کے کھڑے ہونے سے یہ دیواریں گر رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ امریکی اور بھارتی مل کر مساجد اور مزارات پر حملے کرا رہے ہیں لیکن دشمن کے اس شر سے خیر برآمد ہوگااور دینی قیادت درد مشترک اور قدر مشترک پر اکٹھی ہوگی۔انھوں نے کہا کہ دینی جماعتیں پہلے بھی اکٹھی ہوئی ہیں لیکن مصلحتوں کے آڑے آنے کی وجہ سے اتحاد ٹوٹتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ علماء و مشائخ مل کر دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ مساجد و مزارات پر دھماکوں کا فائدہ دشمن کو پہنچ رہاہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں غیر مسلموں کے بھی تحفظ کے حامی ہیں۔
خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اتحاد امت وقت کی اہم ضرورت ہے، امت کو متحد ہو کر اغیار کے حملے کا جواب دینا چاہیے۔علماء و مشائخ طاغوت کے سامنے کھڑے ہیں،جماعت اسلامی اسلام آباد میں دھرنا دے تو علماء و مشائخ اس کے ساتھ تعاون کریں گے۔حضرت میاں میر لاہور کے سجادہ نشین پیر سید ہارون گیلانی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی بین الاقوامی قوتوں کی سازش کا شاخسانہ ہے۔گزشتہ ڈیڑھ سو سالوں میں ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں کے کون سے ہولی کھیلی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بم شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی پر نہیں مسلمانوں پر گرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دینی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا چاہیے اور علماء و مشائخ اس میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں۔

گوجرانوالہ: ڈاکٹر عافیہ صدیقی، اہل کشمیر سے اظہار یکجہتی اور نیٹو حملوں کے خلاف نکالی گئی ریلی کے موقع پر امیر جماعت اسلامی سید منور حسن، ڈاکٹر وسیم اختر، ڈاکٹر عبیداللہ گوہر و دیگر قائدین اظہار یکجہتی کر رہے ہیں

Syed Munawar Hassan's views on Afghan Jihad & latest Kashmir Freedom Movement. (Front Line)

Syed Munawar Hassan describing 9/11 & insulting cheep Imtiaz Alam.

حکمرانوں کے پاؤں بارود کے ڈھیر پر ہیںجو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے : سید منور حسن

امریکہ اور بھارت پاکستانی ایٹمی پروگرام پر قبضے کے لئے سازشیں کر رہے ہیں : منورحسن


کشمیر کو پس پشت ڈال کر بھارت سے مذاکرات کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے : منور حسن


علماء متحد ہو کر ہر سازش ناکام بنا دیں : سید منور حسن



دہشگردی میں کون ملوث ہیں ، حکمران کھل کر دشمن کی نشاہدہی کریں : منور حسن

کراچی : سید منور حسن ، حسین محنتی اور سجاد میر مسئلہ کشمیر سیمینار سے خطاب کر رہے ہیں

ایم کیوایم کی دہشتگردی سے کراچی میں حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے : منور حسن

منور حسن کی متحدہ کے ہاتھوں زخمی والے والے کارکنان کی عیادت

داتا دربار پر کوئی مسلمان حملہ نہیں کر سکتا ، وزیر داخلہ بلیک واٹر کے ترجمان بن گئے : منور حسن